KHPAL TEAM

KHPAL CLAN
 
HomeHome  CalendarCalendar  GalleryGallery  FAQFAQ  SearchSearch  UsergroupsUsergroups  RegisterRegister  Log inLog in  
Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Latest topics
Navigation
 Portal
 Index
 Memberlist
 Profile
 FAQ
 Search
Forum
Social bookmarking
Social bookmarking digg  Social bookmarking delicious  Social bookmarking reddit  Social bookmarking stumbleupon  Social bookmarking slashdot  Social bookmarking yahoo  Social bookmarking google  Social bookmarking blogmarks  Social bookmarking live      

Bookmark and share the address of ~ NooR.forumotion.com ~ on your social bookmarking website

Bookmark and share the address of KHPAL TEAM on your social bookmarking website

Share | 
 

 --~~ احساس جگانے کی ضرورت ھے ~~ --

Go down 
AuthorMessage
Admin
Admin
Admin
avatar

Posts : 52
Points : 33471
Join date : 2009-08-15
Age : 32
Location : UAE

PostSubject: --~~ احساس جگانے کی ضرورت ھے ~~ --   Sun Aug 24, 2014 2:29 am

ایک طالب علم نے جب مصر کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور وقت ھونے پر اُس نے نماز پڑھنے کی جگہ تلاش کرنا چاھی تو اُسے بتایا گیا کہ یونیورسٹی میں نماز پڑھنے کی جگہ تو نہیں ھے ' ھاں مگر تہہ خانے میں بنے ھوئے ایک کمرے میں اگر کوئی چاھے تو وھاں جاکر نماز پڑھ سکتا ھے..
طالب علم یہ بات سوچتے ھوئے کہ دوسرے طالب علم اور اساتذہ نماز پڑھتے بھی ھیں یا نہیں ' تہہ خانے کی طرف اُس کمرے کی تلاش میں چل پڑا..
وھاں پہنچ کر اُس نے دیکھا کہ نماز کیلئے کمرے کے وسط میں ایک پھٹی پرانی چٹائی تو بچھی ھوئی ھے مگر کمرہ صفائی سے محروم اور کاٹھ کباڑ اور گرد و غبار سے اٹا ھوا ھے جبکہ یونیورسٹی کا ایک ادنیٰ ملازم وھاں پہلے سے نماز پڑھنے کیلئے موجود ھے..
طالب علم نے اُس ملازم سے پوچھا.. " کیا تم یہاں نماز پڑھو گے..؟ "
ملازم نے جواب دیا.. " ھاں.. اوپر موجود لوگوں میں سے کوئی بھی ادھر نماز پڑھنے کیلئے نہیں آتا اور نماز کیلئے اس کے علاوہ کوئی جگہ بھی نہیں ھے.. "
طالب علم نے ملازم کی بات پر اعتراض کرتے ھوئے کہا.. " مگر میں یہاں ھرگز نماز نہیں پڑھوں گا.. " اور اوپر کی طرف سب لوگوں کو واضح دکھائی دینے والی مناسب سی جگہ کی تلاش میں چل پڑا.. اور پھر اُس نے ایک جگہ کا انتخاب کر کے نہایت ھی "عجیب" حرکت کر ڈالی..
اُس نے بلند آواز سے اذان کہی..
پہلے تو سب لوگ اس عجیب حرکت پر حیرت زدہ ھوئے پھر انہوں نے ھنسنا اور قہقہے لگانا شروع کر دیئے.. اُنگلیاں اُٹھا کر اس طالب علم کو پاگل اور اُجڈ شمار کرنے لگے مگر یہ طالب علم تھا کہ کسی چیز کی پرواہ کیے بغیر اذان پوری کہہ کر تھوڑی دیر کیلئے اُدھر ھی بیٹھ گیا.. اُس کے بعد دوبارہ اُٹھ کر اقامت کہی اور اکیلے ھی نماز پڑھنا شروع کردی.. اُس کی نماز میں محویت سے تو ایسا دکھائی تھا کہ گویا وہ اس دنیا میں تنہا ھی ھے اور اُس کے آس پاس کوئی بھی موجود نہیں..
دوسرے دن اُسی وقت پر آ کر اُس نے وھاں پھر بلند آواز سے اذان دی ' خود ھی اقامت کہی اور خود ھی نماز پڑھ کر اپنی راہ لی.. اس کے بعد تو یہ معمول ھی چل نکلا.. ایک دن ' دو دن ' تین دن.. وہی صورتحال..!!
پھر قہقہے لگانے والے لوگوں کیلئے اُس طالب علم کا یہ دیوانہ پن کوئی نئی چیز نہ رھا اور آھستہ آھستہ قہقہوں کی آواز بھی کم سے کم ھوتی گئی..
اس کے بعد پہلی تبدیلی کی ابتداء ھوئی..
نیچے تہہ خانے میں نماز پڑھنے والے ملازم نے ھمت کرکے باھر اس جگہ پر اس طالب علم کی اقتداء میں نماز پڑھ ڈالی.. ایک ھفتے کے بعد یہاں نماز پڑھنے والے چار لوگ ھو چکے تھے.. اگلے ھفتے ایک اُستاد بھی آ کر اِن لوگوں میں شامل ھوگیا..
یہ بات پھیلتے پھیلتے یونیورسٹی کے چاروں کونوں میں پہنچ گئی.. پھر ایک دن چانسلر نے اس طالبعلم کو اپنے دفتر میں بلا لیا اور کہا..
" تمہاری یہ حرکت یونیورسٹی کے معیار سے میل نہیں کھاتی اور نہ ھی یہ کوئی مہذب منظر دکھائی دیتا ھے کہ تم یونیورسٹی ھال کے بیچوں بیچ کھڑے ھو کر اذانیں دو یا جماعت کراؤ.. ھاں میں یہ کر سکتا ھوں کہ یہاں اس یونیورسٹی میں ایک کمرے کی چھوٹی سی صاف سُتھری مسجد بنوا دیتا ھوں.. جس کا دل چاھے نماز کے وقت وھاں جا کر نماز پڑھ لیا کرے.. "
اور اس طرح مصر کی ایگریکلچر یونیورسٹی میں پہلی مسجد کی بنیاد پڑی.. اور یہ سلسلہ یہاں پر رُکا نہیں..
باقی کی یونیورسٹیوں کے طلباء کی بھی غیرت ایمانی جاگ اُٹھی اور ایگریکلچر یونیورسٹی کی مسجد کو بُنیاد بنا کر سب نے اپنے اپنے ھاں مسجدوں کی تعمیر کا مطالبہ کر ڈالا اور پھر ھر یونیورسٹی میں ایک مسجد بن گئی..
اِس طالبعلم نے ایک مثبت مقصد کے حصول کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا اور پھر اِس مثبت مقصد کے نتائج بھی بہت عظیم الشان نکلے.. اور آج دن تک ' خواہ یہ طالب علم زندہ ھے یا فوت ھو چکا ھے مصر کی یونیورسٹیوں میں بنی ھوئی سب مسجدوں میں اللہ کی بندگی ادا کئے جانے کے عوض اجر و ثواب پا رھا ھےاور رھتی دُنیا تک اسی طرح اجر پاتا رھے گا..
اس طالب علم نے اپنی زندگی میں کار خیر کرکے نیک اعمالوں میں اضافہ کیا.. میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ ھم نے اپنی زندگیوں میں ایسا کونسا اضافہ کیا ھے کہ ھمارا اثر و رسوخ ھمارے گردو نواح کے ماحول پر نظر آئے.. ؟؟؟
ھمیں چاھیے کہ اپنے اطراف میں نظر آنے والی غلطیوں کی اصلاح کرتے رھا کریں. حق و صدق کہنے اور کرنے میں کیسی مروت اور کیسا شرمانا..؟ بس مقاصد میں کامیابی کیلئے اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد و نصرت کی دعا مانگتے رھیں..
اور اس کا فائدہ کیا ھوگا..؟؟؟
اپنے لیے اور دوسرے کیلئے سچائی اور حق کا علم بُلند کر کے اللہ کے ھاں مأجور ھوں کیونکہ جس نے کسی نیکی کی ابتداء کی اُس کیلئے اجر اور جس نے رھتی دُنیا تک اُس نیکی پر عمل کیا اُس کیلئے اور نیکی شروع کرنے والے کو بھی ویسا ھی اجر ملتا رھے گا..
لوگوں میں نیکی کرنے کی لگن کی کمی نہیں ھے بس اُن کے اندر احساس جگانے کی ضرورت ھے..!!
Back to top Go down
View user profile http://pzalmicoc.board-directory.net
 
--~~ احساس جگانے کی ضرورت ھے ~~ --
Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
KHPAL TEAM :: -- ~~ (PosT OF ThE DaY) ~~ -- :: -- ~~ (PosT OF ThE DaY) ~~ ---
Jump to: